(۲۰۹۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ مُغِیرَۃَ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ عَنْ عِیَاضٍ الأَشْعَرِیِّ : أَنَّہُ شَہِدَ عِیدًا بِالأَنْبَارِ فَقَالَ مَا لِی لاَ أَرَاکُمْ تُقَلِّسُونَ کَانُوا فِی زَمَانِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَفْعَلُونَہُ۔ قَالَ یُوسُفُ بْنُ عَدِیٍّ التَّقْلِیسُ أَنْ تَقْعُدَ الْجَوَارِی وَالصِّبْیَانُ عَلَی أَفْوَاہِ الطُّرُقِ یَلْعَبُونَ بِالطَّبْلِ وَغَیْرِ ذَلِکَ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرَوَاہُ ہُشَیْمٌ عَنِ الْمُغِیرَۃِ غَیْرَ أَنَّہُ قَالَ فَإِنَّہُ مِنَ السُّنَّۃِ فِی الْعِیدَیْنِ یَعْنِی ضَرْبَ الدُّفِّ عِنْدَ الاِنْصِرَافِ۔ وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ عَنْ شَرِیکٍ فَقَالَ زِیَادُ بْنُ عِیَاضٍ الأَشْعَرِیُّ۔ [ضعیف]
(٢٠٩٧٨) عامرشعبی حضرت عیاض شعری سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ انبار میں عید کے دن حاضر ہوئے۔ فرمانے لگے : تم کھیلتے کیوں نہیں، حالانکہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں کھیلا کرتے تھے۔ یوسف بن عدی فرماتے ہیں کہ تقلیس کا یہ معنی ہے کہ بچیاں اور بچے راستوں پر بیٹھ کر طبل سے کھیلا کرتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں : عید پڑھنے کے بعد دف بجانا سنت ہے۔