(۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاہُ عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ: أَنَّہَا کَرِہَتْ أَنْ یُتَوَضَّأَ بِالْمَائِ الَّذِی یُبَلُّ فِیہِ الْخُبْزُ۔
(ق) وَہَذَا إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا أَرَادَتْ إِذَا غَلَبَ عَلَیْہِ حَتَّی أُضِیفَ إِلَیْہِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۳۹]
(٢١) حضرت ام ہانی (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے اس پانی کے ساتھ وضو کرنا ناپسند کیا جس میں روٹیاں تیر رہی ہوں۔
یہ روایت تب صحیح ہے جب روٹیاں پانی پر غالب ہوں اور مکمل نسبت ہی ان کی طرف کردی جائے یعنی وہ پانی نہ رہے۔