(۲۱۰۰۱) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ فِی الْقُرْآنِ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ} [المائدہ۹۰] قَالَ : ہِیَ فِی التَّوْرَاۃِ إِنَّ اللَّہَ أَنْزَلَ الْحَقَّ لِیُذْہِبَ بِہِ الْبَاطِلَ وَیُبْطِلَ بِہِ اللَّعِبَ وَالزَّفْنَ وَالزِّمَّارَاتِ وَالْمَزَاہِرَ وَالْکِنَّارَاتِ۔زَادَ ابْنُ رَجَائٍ فِی رِوَایَتِہِ وَالتَّصَاوِیرَ وَالشِّعْرَ وَالْخَمْرَ فَمَنْ طَعِمَہَا أَقْسَمَ بِیَمِینِہِ وَعِزَّتِہِ لَمَنْ شَرِبَہَا بَعْدَ مَا حَرَّمْتُہَا لأُعْطِشَنَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ تَرَکَہَا بَعْدَ مَا حَرَّمْتُہَا سَقَیْتُہُ إِیَّاہَا مِنْ حَظِیرَۃِ الْقُدْسِ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَوْلُہُ الْمَزَاہِرُ وَاحِدُہَا مِزْہَرٌ وَہُوَ الْعُودُ الَّذِی یُضْرَبُ بِہِ وَأَمَّا الْکِنَّارَاتُ فَیُقَالُ إِنَّہَا الْعِیدَانُ أَیْضًا وَیُقَالُ بَلِ الدُّفُوفُ وَأَمَّا الْکُوبَۃُ یَعْنِی الْمَذْکُورَۃَ فِی خَبَرٍ آخَرَ مَرْفُوعٍ فَإِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ کَثِیرٍ أَخْبَرَنِی أَنَّ الْکُوبَۃَ النَّرْدُ فِی کَلاَمِ أَہْلِ الْیَمَنِ وَقَالَ غَیْرُہُ الطَّبْلُ قَالَ الشَّیْخُ ۔ [صحیح]
(٢١٠٠١) عطاء بن یسار حضرت عبداللہ بن عمرو سے بیان کرتے ہیں کہ قرآن کی اس آیت کے بارہ میں { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ } [المائدہ ٩٠] ” اے ایمان والو ! شراب، جوئے، بت، پانسے کے تیر ناپاک کام شیطان کے اعمال میں سے ہیں، ان سے بچو تاکہ تم نجات پا جاؤ۔ “
فرماتے ہیں کہ توراۃ میں ہے کہ اللہ نے حق کو نازل کیا، تاکہ باطل ختم ہوجائے اور وہ کھیلوں، گانے بجانے کے آلات اور ڈھول بجانے والی لکڑیوں وغیرہ کو بھی باطل قرار دے دیا۔
(ب) ابن رجاء کی روایت میں ہے کہ تصویریں، اشعار، شراب، وغیرہ جس نے لالچ کرتے ہوئے ان کو پیا مجھے میری عزت کی قسم میں اس کو قیامت والے دن پیاسا رکھوں گا اور جس نے اس کی حرمت کے بعد نہ پیا تو اس کو حظیرۃ القدس سے پلاؤں گا۔