(۲۱۰۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَخَلَ عَلَیْہَا وَعِنْدَہَا جَارِیَتَانِ فِی أَیَّامِ مِنًی تُغَنِّیَانِ وَتُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُتَغَشٍّ بِثَوْبِہِ فَانْتَہَرَہُنَّ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَشَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ وَجْہِہِ وَقَالَ : دَعْہُمَا یَا أَبَا بَکْرٍ فَإِنَّہَا أَیَّامُ عِیدٍ وَتِلْکَ أَیَّامُ مِنًی ۔ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالْمَدِینَۃِ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَسْتُرُنِی بِثَوْبِہِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَی الْحَبَشَۃِ وَہُمْ یَلْعَبُونَ فِی الْمَسْجِدِ وَأَنَا جَارِیَۃٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
(٢١٠١٣) عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ان کے پاس ابوبکر صدیق (رض) آئے اور منیٰ کے ایام میں ان کے پاس دو گانے والی بچیاں تھیں۔ وہ دونوں دف بجا رہی تھیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کپڑا اوڑھے لیٹے ہوئے تھے تو ابوبکر صدیق (رض) نے ان کو ڈانٹ پلائی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چہرے سے کپڑا ہٹایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوبکر چھوڑو، یہ عید کے ایام ہیں اور یہ منیٰ کے ایام تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں تھے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کپڑے سے چھپا رکھا تھا اور میں مسجد میں کھیلنے والے حبشیوں کی کھیل دیکھ رہی تھی۔ میں اس وقت بچی تھی۔