(۲۱۰۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ قَالَ السَّائِبُ بْنُ یَزِیدَ : بَیْنَا نَحْنُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِی طَرِیقِ الْحَجِّ وَنَحْنُ نَؤُمُّ مَکَّۃَ اعْتَزَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الطَّرِیقَ ثُمَّ قَالَ لِرَبَاحِ بْنِ الْمُغْتَرِفِ غَنِّنَا یَا أَبَا حَسَّانَ وَکَانَ یُحْسِنُ النَّصْبَ فَبَیْنَا رَبَاحٌ یُغَنِّیہِمْ أَدْرَکَہُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی خِلاَفَتِہِ فَقَالَ : مَا ہَذَا؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : مَا بَأْسٌ بِہَذَا نَلْہُو وَنُقَصِّرُ عَنَّا۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَإِنْ کُنْتَ آخِذًا فَعَلَیْکَ بِشِعْرِ ضِرَارِ بْنِ الْخَطَّابِ وَضِرَارٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِی مُحَارِبِ بْنِ فِہْرٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَالنَّصْبُ ضَرْبٌ مِنْ أَغَانِی الأَعْرَابِ وَہُوَ یُشْبِہُ الْحُدَائَ قَالَہُ أَبُو عُبَیْدٍ الْہَرَوِیُّ
وَرُوِّینَا فِیہِ قِصَّۃً أُخْرَی عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عُمَرَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فِی کِتَابِ الْحَجِّ قَالَ فِیہَا خَوَّاتٌ : فَمَا زِلْتُ أُغَنِّیہِمْ حَتَّی إِذَا کَانَ السَّحَرُ۔ [صحیح]
(٢١٠١٤) سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ ہم عبدالرحمن بن عوف کے ساتھ حج کے راستہ میں تھے اور مکہ کا ارادہ تھا۔ عبدالرحمن راستے کی ایک طرف ہوگئے اور رباح بن مغترف سے کہنے لگے : گانا سناؤ۔ وہ اچھی آواز والے تھے تو رباح کو گانا سنا رہے تھے تو عمر بن خطاب (رض) نے اپنے دور خلافت میں ان کو پکڑ لیا اور پوچھا : یہ کیا ہے ؟ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : اگر آپ نے شعر ہی یاد کرنے ہیں تو پھر ضرار بن خطاب کے اشعار یاد کرو اور ضرار یہ قبیلہ بنو محارب بن فہر کا آدمی تھا۔