(۲۱۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ بُرَیْدٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ قَالَ: أَقْبَلْتُ مِنَ الْجَبَّانِ فَمَرَرْتُ فِی جُعْفِیٍّ وَأَنَا أَقُولُ: الآنَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، فَمَرَرْتُ بِسُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ عِنْدَ مَسْجِدِہِمْ فَقُلْتُ: أَصَلَّیْتُمْ؟ فَقَالَ: نَعَمْ۔ فَقُلْتُ: مَا أَرَاکُمْ إِلاَّ قَدْ عَجَّلْتُمْ۔ قَالَ: کَذَلِکَ کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یُصَلِّیہَا۔ [حسن]
(٢١٠٥) سیدنا ابوبردہ (رض) سے روایت ہے کہ میں جبان سے آ رہا تھا۔ جب میں جعفی مقام سے گزرا تو میں نے کہہ دیا : اب سورج نے مغرب کی نماز واجب کردی ہے۔ میں سوید بن غفلہ کی مسجد کے پاس سے گزرا تو میں نے ان سے پوچھا : کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں ! میں نے کہا : تم نے تو نماز جلدی ادا کردی۔ وہ کہنے لگے : عمر بن خطاب (رض) بھی اسی وقت نماز ادا کیا کرتے تھے۔