(۲۱۰۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ وَأَبُو عَلِیٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْہَرَوِیُّ
(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّرَاجُ أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِیٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْہَرَوِیُّ قَالاَ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ تَبَاغَضُوا وَلاَ تَحَاسَدُوا وَلاَ تَدَابَرُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّہِ إِخْوَانًا وَلاَ یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ یَہْجُرَ أَخَاہُ فَوْقَ ثَلاَثِ لَیَالٍ یَلْتَقِیَانِ یَصُدُّ ہَذَا وَیَصُدُّ ہَذَا وَخَیْرُہُمَا الَّذِی یَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : قَدْ جَمَعَ اللَّہُ النَّاسَ بِالإِسْلاَمِ وَنَسَبَہُمْ إِلَیْہِ فَہُوَ أَشْرَفُ أَنْسَابِہِمْ فَإِنْ أَحَبَّ امْرُؤٌ فَلْیُحْبِبْ عَلَیْہِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢١٠٦١) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دوسرے کے ساتھ بغض، حسد اور قطع تعلقی اختیار نہ کرو۔ تم آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ اور کوئی مسلمان اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی نہ رکھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے ملیں تو آپس میں اعراض کرنے والے ہوں، لیکن بہتر وہ ہے جو سلام میں ابتدا کرتا ہے۔
امام شافعی (رح) نے فرمایا : اللہ نے لوگوں کو اسلام پر جمع کیا۔ اس پر ہی ان کے انساب ہیں اور ان کے بہترین نسب ہیں، اگر کوئی آدمی محبت رکھتا ہے تو اس سے بھی محبت کی جائے۔