(۲۱۰۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَیَ جَیْشِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ قَالَ فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ : أَیُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟ ۔ وَفِی حَدِیثِ یَحْیَی فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَیْکَ؟ قَالَ : عَائِشَۃُ ۔ قُلْتُ : مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ : أَبُوہَا ۔ قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : ثُمَّ عُمَرُ فَعَدَّ رِجَالاً۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بِشْرٍ الْوَاسِطِیِّ وَہُوَ إِسْحَاقُ بْنُ شَاہِینٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٢١٠٧١) ابو عثمان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن عاص کو ذات السلاسل کے لشکر کے ساتھ روانہ کیا، کہتے ہیں : میں آیا اور پوچھا : اے اللہ کے رسول ! آپ کو لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبوب کون ہے۔ یحییٰ کی حدیث میں ہے، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ فرمایا : عائشہ (رض) ۔ میں نے کہا : مردوں میں ؟ فرمایا : اس کا باپ۔ میں نے کہا : پھر کون ؟ فرمایا : عمر (رض) آپ نے کئی آدمیوں کو شمار کیا۔