(۲۱۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی الْفَرَّائُ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((لاَ تَزَالُ أُمَّتِی عَلَی الْفِطْرَۃِ مَا لَمْ یُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّی تَشْتَبِکَ النُّجُومُ))۔
وَقَدْ رُوِّینَا فِیمَا مَضَی مِنْ حَدِیثِ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ وَرُوِیَ ذَلِکَ مِنْ حَدِیثِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ وَاحْتَجَّ بَعْضُ مَنْ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ بِمَا۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۴۱۸]
(٢١٠٩) (ا) حضرت عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت اس وقت تک فطرت (سلیمہ) پر قائم رہے گی جب تک مغرب کو ستاروں کے ظاہر ہونے تک موخر نہیں کرے گی۔
(ب) ہم نے پیچھے ابوایوب انصاری (رض) کی حدیث روایت کی ہے اور یہ حضرت علی (رض) اور انس بن مالک (رض) کی حدیث ہے۔ ان لوگوں نے اس سے دلیل پکڑی ہے جو مغرب کو تاخیر سے ادا کرتے ہیں۔