hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 21099

.

سنن البيهقي

21099
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۰۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ أَبِی غِفَارٍ حَدَّثَنَا أَبُو تَمِیمَۃَ الْہُجَیْمِیُّ وَأَبُو تَمِیمَۃَ اسْمُہُ طَرِیفُ بْنُ مُجَالِدٍ عَنْ أَبِی جُرَیٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَیْمٍ قَالَ : رَأَیْتُ رَجُلاً یَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْیِہِ لاَ یَقُولُ شَیْئًا إِلاَّ صَدَرُوا عَنْہُ قُلْتُ مَنْ ہَذَا؟ قَالُوا : رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-۔ قُلْتُ : عَلَیْکَ السَّلاَمُ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَرَّتَیْنِ۔ قَالَ : لاَ تَقُلْ عَلَیْکَ السَّلاَمُ عَلَیْکَ السَّلاَمُ تَحِیَّۃُ الْمَیِّتِ قُلِ السَّلاَمُ عَلَیْکَ ۔ قَالَ قُلْتُ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّہِ۔ قَالَ : أَنَا رَسُولُ اللَّہِ الَّذِی إِذَا أَصَابَکَ ضَرٌّ فَدَعَوْتَہُ کَشَفَہُ عَنْکَ وَإِنْ أَصَابَکَ عَامَ سَنَۃٍ فَدَعَوْتَہُ أَنْبَتَہَا لَکَ وَإِذَا کُنْتَ بِأَرْضِ قَفْرٍ أَوْ فَلاَۃٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُکَ فَدَعَوْتَہُ رَدَّہَا عَلَیْکَ۔ قَالَ قُلْتُ: اعْہَدْ إِلَیَّ۔ قَالَ: لاَ تَسُبَنَّ أَحَدًا۔ قَالَ : فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَہُ حُرًّا وَلاَ عَبْدًا وَلاَ بَعِیرًا وَلاَ شَاۃً۔ قَالَ: وَلاَ تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَیْئًا وَأَنْ تُکَلِّمَ أَخَاکَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَیْہِ وَجْہُکَ إِنَّ ذَلِکَ مِنَ الْمَعْرُوفِ وَارْفَعْ إِزَارَکَ إِلَی نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَیْتَ فَإِلَی الْکَعْبَیْنِ وَإِیَّاکَ وَإِسْبَالَ الإِزَارِ فَإِنَّہَا مِنْ الْمَخِیلَۃِ وَإِنَّ اللَّہَ لاَ یُحِبُّ الْمَخِیلَۃَ وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَکَ وَعَیَّرَکَ بِمَا یَعْلَمُ فِیکَ فَلاَ تُعَیِّرْہُ بِمَا تَعْلَمُ فِیہِ فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِکَ عَلَیْہِ ۔ [حسن]
(٢١٠٩٣) جابر بن سلیم فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا (کہ لوگ اس کی بات کہتے ہیں۔ اس کی بات مانتے ہیں) میں نے کہا : یہ کون ہے ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے کہا اپ پر سلام، اے اللہ کے رسول ! دو مرتبہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علیک السلام نہ کہو۔ کیونکہ یہ مردوں کا تحفہ ہے، آپ السلام علیک کہا کرو۔ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں۔ وہ ذات اگر آپ کو کوئی مصیبت آئے تو آپ اس کو پکاریں تو وہ آپ کی پریشانی دور کردیتا ہے۔ اگر قحط سالی آئے تو آپ اس سے دعا کریں، انگوریاں اگاہ دیتا ہے۔ اگر جنگل میں آپ کی سواری گم ہوجائے تو اس کو پکارو تو وہ تمہاری سواری لوٹا دیتا ہے، میں نے کہا : مجھ سے عہد لو۔ فرمایا : کسی کو گالی مت دینا۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد میں نے آزاد، غلام، اونٹ اور بکری کو بھی گالی نہیں دی اور فرمایا : نیکی کو حقیر نہ جاننا اور اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے بات کرنا یہ بھی نیکی ہے اور اپنی تہمت کو نصف پنڈلی تک اٹھائے رکھ۔ اگر تو انکار کرے تو ٹخنوں تک۔ چادر کو لٹکانے سے بچنا یہ تکبر ہے اور اللہ تکبر کو ناپسند فرماتے ہیں۔ اگر کوئی آدمی آپ کو گالی دے یا عار دلائے جس کو وہ جانتا ہے تو آپ عار نہ دلائیں۔ اس کا وبال اس پر ہی ہوگا۔