hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 21112

.

سنن البيهقي

21112
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۱۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ خَالِدٍ یَعْنِی ابْنَ یَزِیدَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیَّۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : اہْجُوا قُرَیْشًا فَإِنَّہُ أَشَدُّ عَلَیْہَا مِنْ رَشْقِ النَّبْلِ ۔ فَأَرْسَلَ إِلَی ابْنِ رَوَاحَۃَ فَقَالَ : اہْجُ ۔ فَہَجَاہُمْ فَلَمْ یُرْضِ فَأَرْسَلَ إِلَی کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہِ قَالَ حَسَّانُ : قَدْ آنَ لَکُمْ أَنْ تُرْسِلُوا إِلَی ہَذَا الأَسَدِ الضَّارِبِ بِذَنَبِہِ ۔ ثُمَّ أَدْلَعَ لِسَانَہُ فَجَعَلَ یُحَرِّکُہُ ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لأَفْرِیَنَّہُمْ بِلِسَانِی فَرْیَ الأَدِیمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَعْجَلْ فَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ أَعْلَمُ قُرَیْشٍ بِأَنْسَابِہَا وَإِنَّ لِی فِیہِمْ نَسَبًا حَتَّی یُخْلَصَ لَکَ نَسَبِی ۔ فَأَتَاہُ حَسَّانُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ مَحَضَ لِی نَسَبَکَ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لأَسُلَّنَّکَ مِنْہُمْ کَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَۃُ مِنَ الْعَجِینِ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ لِحَسَّانَ : إِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ لاَ یَزَالُ یُؤَیِّدُکَ مَا نَافَحْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ ۔ وَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ہَجَاہُمْ حَسَّانُ فَشَفَی وَاشْتَفَی ۔ فَقَالَ حَسَّانُ : (۱) ہَجَوْتَ مُحَمَّدًا فَأَجَبْتُ عَنْہُ وَعِنْدَ اللَّہِ فِی ذَاکَ الْجَزَائُ (۲) ہَجَوْتَ مُحَمَّدًا بَرًّا حَنِیفًا رَسُولَ اللَّہِ شِیمَتُہُ الْوَفَائُ (۳) فَإِنَّ أَبِی وَوَالِدَہُ وَعِرْضِی لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْکُمْ وِقَائُ (۴) ثَکِلْتُ بُنَیَّتِی إِنْ لَمْ تَرَوْہَا تُثِیرُ النَّقْعَ مَوْعِدُہَا کَدَائُ (۵) یُنَازِعْنَ الأَسِنَّۃَ مُشْرَعَاتٍ عَلَی أَکْتَافِہَا الأَسَلُ الظِّمَائُ (۶) تَظَلُّ جِیَادُنَا مُتَمَطِّرَاتٍ تُلَطِّمُہُنَّ بِالْخُمُرِ النِّسَائُ (۷) فَإِنْ أَعْرَضْتُمُ عَنَّا اعْتَمَرْنَا وَکَانَ الفَتْحُ وَانْکَشَفَ الْغِطَائُ (۸) وَإِلاَّ فَاصْبِرُوا لِضِرَابِ یَوْمٍ یُعِزُّ اللَّہُ فِیہِ مَنْ یَشَائُ (۹) وَقَالَ اللَّہُ قَدْ أَرْسَلْتُ عَبْدًا یَقُولُ الحَقَّ لَیْسَ بِہِ خَفَائُ (۱۰) وَقَالَ اللَّہُ قَدْ أَرْسَلْتُ جُنْدًا ہُمُ الأَنْصَارُ عَزْمَتُہَا اللِّقَائُ (۱۱) لَنَا فِی کُلِّ یَوْمٍ مِنْ مَعَدٍّ سِبَاء ٌ أَوْ قِتَالٌ أَوْ ہِجَائُ (۱۲) فَمَنْ یَہْجُو رَسُولَ اللَّہِ مِنْکُمْ وَیَمْدَحُہُ وَیَنْصُرُہُ سَوَائُ (۱۳) وَجِبْرِیلٌ رَسُولُ اللَّہِ فِینَا وَرُوحُ الْقُدُسِ لَیْسَ لَہُ کِفَائُ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ شُعَیْبِ بْنِ اللَّیْثِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ۔
(٢١١٠٦) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریش کی مذمت کرو، یہ ان پر تیر پھینکنے سے زیادہ سخت ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن رواحہ کو روانہ کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان مذمت کر۔ اس نے ان کی مذمت کی لیکن آپ راضی نہ ہوئے۔ پھر کعب بن مالک کی طرف روانہ کیا۔ پھر حسان بن ثابت کو روانہ کیا۔ جب حسان آئیتو کہنے لگے : اب میں تمہارے لیے آیا ہوں، دم ہلانے والے شیر کی جانب روانہ کرو۔ پھر زبان باہر نکال کر اس کو حرکت دی، پھر کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ میں ان کو چمڑے کے پھاڑنے کی طرح پھاڑ ڈالوں گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حسان ! جلدی نہ کرنا کیونکہ ابوبکر (رض) قریش کے نسب کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ کیونکہ میرا نسب بھی ان میں ہے تو میرے نسب کو جدا کرلیا جائے۔ پھر حضرت حسان ابوبکر (رض) کے پاس آئے پھر لوٹ گئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نسب خالص کردیا گیا، میرے لیے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان سے ایسے نکال لوں گا، جیسے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسان سے کہہ رہے تھے کہ جبرائیل تیری مدد فرماتے رہیں گے، جب تک تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع کرے گا، فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے، حسان نے ان کی مذمت کر کے خود بھی اور ہمیں بھی آرام دیا۔ حسان نے کہا :
1 تو نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مذمت کی ہے تو میں نے ان کی جانب سے جواب دیا ہے
اور اللہ کے نزدیک میرے لیے اس میں بدلہ ہے جزا ہے
2 تو نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برائی کی جو نیک ہیں یک سو ہیں
اللہ کے رسول ہیں، وفاداری ان کی عادت مبارکہ ہے
3 میرے ماں باپ اور میری آبرو
محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آبرو بچانے کے لیے قربان ہے
4 میں اپنی جان کھو دوں اگرچہ تم اس کو نہ دیکھو
وہ گردو غبار کو کداء کی دونوں جانب سے اڑا دے گا
5 ایسی طاقت ور اونٹنیاں جو باگوں پر زور لگاتی ہیں اور اوپر چڑھتی ہیں
ان کے کندھوں پر تیز نوک والے برچھے ہیں جو خون کے پیاسے ہیں
6 اور ہمارے گھوڑے دوڑتے ہوئے آئیں گے
جن کے منہ عورتیں اپنے دوپٹوں سے پونچھتی ہیں
7 اگر تم ہم سے منہ پھیر لو (بات نہ کرو) تو ہم عمرہ کرلیں گے
تو فتح ہوجائے گی اور پردہ اٹھ جائے گا
8 نہیں تو اس دن کی لڑائی کے لیے صبر کرو
جس دن اللہ تعالیٰ فتح دے گا اور جسے چاہے گا عزت دے گا
9 اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بندے کو بھیجا ہے
جو ہمیشہ سچ بات کہتا ہے اس کی بات میں کوئی شبہ نہیں
0 اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک لشکر تیار کیا ہے
وہ انصار کا لشکر ہے جن کا کھیل کافروں سے مقابلہ کرنا ہے
! ہم تو ہر روز ایک نہ ایک تیاری میں ہیں
گالی گلوچ ہے کافروں سے، لڑائی یا ہجو ہے کافروں سے
@ تم میں سے جو اللہ کے رسول کی ہجو کرے
اور ان کی تعریف کرے یا مدد کرے وہ سب برابر ہیں
# جبرائیل امین ہم میں اللہ کے قاصد ہیں
اور روح القدس جن کا کوئی مثل نہیں