(۲۱۱۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِی الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَعِنْدَہَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ یُنْشِدُہَا شِعْرًا یُشَبِّبُ بِأَبْیَاتٍ لَہُ فَقَالَ :
حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِیبَۃٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَی مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ
فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : لَکِنَّکَ لَسْتَ کَذَاکَ۔ قَالَ مَسْرُوقٌ فَقُلْتُ لَہَا : لِمَ تَأْذَنِینَ لَہُ یَدْخُلُ عَلَیْکِ؟ وَقَدْ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ (وَالَّذِی تَوَلَّی کِبْرَہُ مِنْہُمْ لَہُ عَذَابٌ عَظِیمٌ) فَقَالَتْ : فَأَیُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَی وَقَالَتْ إِنَّہُ کَانَ یُنَافِحُ أَوْ یُہَاجِی عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ خَالِدٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢١١٠٧) مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس آیا۔ ان کے پاس حسان بن ثابت تھے، وہ اشعار پڑھ رہے تھے، جو ان کی جوانی کے اشعار تھے۔ شعر
وہ سنجیدہ اور پاک دامن ہیں جن پر کبھی تہمت نہیں لگائی گئی
وہ ہر صبح بھوکی ہو کر نادان بہنوں کا گوشت نہیں کھاتیں
حضرت عائشہ (رض) فرمانے لگی : آپ تو ایسے نہیں، مسروق کہنے لگے : میں نے حضرت عائشہ (رض) سے کہا : آپ ان کو اپنے پاس آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں ؟ حالانکہ اللہ فرماتے ہیں : { وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہُ مِنْہُمْ لَہٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ} [النور ١١] ” وہ انسان جو تہمت کا والی بنا ان میں سے ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔ ‘ ‘ فرمانے لگیں : اندھے پن سے بڑا عذاب کیا ہے ؟ اور فرمانے لگیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع کیا کرتے تھے۔