hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 2114

.

سنن البيهقي

2114
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۱۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِی حَفْصٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ : أَیُّ حِینٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ أَنْ أُصَلِّیَ الْعِشَائَ الَّتِی یَقُولُہَا النَّاسُ الْعَتَمَۃَ إِمَامًا وَخِلْوًا؟ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ: أَعْتَمَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ لَیْلَۃِ الْعِشَائَ حَتَّی رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَیْقَظُوا ، وَرَقَدُوا وَاسْتَیْقَظُوا ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: الصَّلاَۃَ۔ قَالَ عَطَاء ٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی أَنْظُرَ إِلَیْہِ الآنَ یَقْطُرُ رَأْسُہُ مَائً وَاضِعًا یَدَہُ عَلَی شِقِّ رَأْسِہِ فَقَالَ: ((لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِی لأَمَرْتُہُمْ أَنْ یُصَلُّوہَا کَذَلِکَ)) ۔ قَالَ: فَاسْتَثْبَتُّ عَطَائً کَیْفَ وَضَعَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَدَہُ عَلَی رَأْسِہِ کَمَا أَنْبَأَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَبَدَّدَ لِی عَطَاء ٌ بَیْنَ أَصَابِعِہِ شَیْئًا مِنْ تَبْدِیدٍ ، ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِہِ عَلَی فَرْقِ الرَّأْسِ ، ثُمَّ ضَمَّہَا یُمِرُّہَا کَذَلِکَ عَلَی الرَّأْسِ حَتَّی مَسَّتَ إِبْہَامُہُ طَرَفَ الأُذُنِ مِمَّا یَلِی الْوَجْہَ ، ثُمَّ عَلَی الصُّدْغِ وَنَاحِیَۃِ اللِّحْیَۃِ لاَ یُقَصِّرُ وَلاَ یَبْطُشُ بِشَیْئٍ إِلاَّ کَذَلِکَ۔ قُلْتُ لِعَطَائٍ : کُمْ ذُکِرَ لَکَ أَخَّرَہَا النَّبِیُّ -ﷺ- لَیْلَتَئِذٍ؟ قَالَ لاَ أَدْرِی قَالَ عَطَاء ٌ فَأَحَبُّ إِلَیَّ أَنْ تُصَلِّیَہَا إِمَامًا وَخِلْوًا مُؤَخَّرَۃً کَمَا صَلاَّہَا النَّبِیُّ -ﷺ- لَیْلَتَئِذٍ قَالَ: فَإِنْ شَقَّ عَلَیْکَ ذَلِکَ خِلْوًا أَوْ عَلَی النَّاسِ فِی الْجَمَاعَۃِ وَأَنْتَ إِمَامُہُمْ فَصَلِّہَا وَسْطَۃَ ، لاَ مُعَجَّلَۃً وَلاَ مُؤَخَّرَۃً۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ ہَکَذَا وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۵۴]
(٢١١٤) عبدالرزاق فرماتے ہیں : ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہ میں نے عطا سے عرض کیا : آپ کے نزدیک عشا کی نماز ادا کرنے کے لیے کون سا وقت زیادہ بہتر ہے ؟ وہ فرمانے لگے : میں نے ابن عباس (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رات عشا کی نماز میں تاخیر کی، حتیٰ کہ لوگ سو گئے پھر بیدار ہوگئے۔ پھر دوبارہ سو گئے۔ جب بیدار ہوئے تو عمر بن خطاب نے کھڑے ہو کر کہا : نماز کا وقت جا رہا ہے۔ عطا کہتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا : پھر اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ یہ منظر اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھ کو سر کی ایک طرف رکھے ہوئے تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں انھیں اسی طرح (اس وقت میں) نماز پڑھنے کا حکم دیتا۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے پوچھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ سر مبارک پر کس طرح رکھا تھا ؟ تو عطا نے مجھے سمجھانے کی غرض سے اپنی انگلیوں کے درمیان کچھ فاصلہ کیا یعنی انگلیاں کشادہ کرلیں، پھر انگلیوں کے کناروں کو سر میں مانگ پر رکھا پھر انگلیوں کو ملا کر انھیں اسی طرح سر پر پھیرنے لگے حتیٰ کہ ان کا انگوٹھا چہرے کی طرف والی کان کی لو سے ٹکرایا۔
پھر کنپٹی پر اور داڑھی کے کنارے پر ہاتھ پھیرا۔ وہ نہ کمی کر رہے تھے اور نہ زیادتی۔ میں نے عطا سے پوچھا : اس رات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز کتنی دیر تک موخر کی تھی ؟ انھوں نے فرمایا : میں نہیں جانتا، پھر فرمانے لگے : میرے نزدیک زیادہ محبوب یہ ہے کہ تو اس کو باجماعت یا اکیلے پڑھے تو تاخیر کر کے پڑھ جیسا کہ اس رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھائی تھی۔ اگر تجھ پر اکیلے یا جماعت کے ساتھ لوگوں پر گراں گزرے اور تو ان کا امام ہو تو ان کو درمیانے وقت میں پڑھا، نہ بہت زیادہ جلدی اور نہ ہی بہت زیادہ دیر سے۔