(۲۱۱۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ قَالَ الأَصْمَعِیُّ قَوْلُہُ : حَتَّی یَرِیَہُ ۔ ہُوَ مِنَ الْوَرْیِ وَہُوَ أَنْ یَدْوَی جَوْفُہُ۔قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَسَمِعْتُ یَزِیدَ بْنَ ہَارُونَ یُحَدِّثُ عَنِ الشَّرْقِیِّ بْنِ الْقُطَامِیِّ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لأَنْ یَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِکُمْ قَیْحًا حَتَّی یَرِیَہُ خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَمْتَلِئَ شِعْرًا ۔ یَعْنِی مِنَ الشِّعْرِ الَّذِی ہُجِیَ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ-۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَالَّذِی عِنْدِی فِی ہَذَا الْحَدِیثِ غَیْرُ ہَذَا الْقَوْلِ لأَنَّ الَّذِی ہُجِیَ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- لَوْ کَانَ شَطْرَ بَیْتٍ لَکَانَ کُفْرًا وَلَکِنْ وَجْہُہُ عِنْدِی أَنْ یَمْتَلِئَ قَلْبُہُ حَتَّی یَغْلِبَ عَلَیْہِ فَیَشْغَلَہُ عَنِ الْقُرْآنِ وَعَنْ ذِکْرِ اللَّہِ فَیَکُونُ الْغَالِبُ عَلَیْہِ مِنْ أَیِّ الشِّعْرِ کَانَ۔ [ضعیف]
(٢١١٤٦) شعبی سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے ایک کا پیٹ پیپ سے بھرا ہوا ہو، وہ اس کو اپنے لیے بہتر خیال کرے اس کہ وہ اشعار سے بھرا ہوا ہو۔ یعنی ایسے اشعار جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مذمت بیان کی گئی ہو۔
ابوعبید فرماتے ہیں : اگر نصف شعر بھی ہو جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مذمت بیان کی گئی ہو تو وہ کفر ہے، لیکن میرے نزدیک یہ ہے کہ انسان کا دل اس کے اوپر اشعار غالب آجائیں جس کی بنا پر وہ اللہ کے ذکر اور قرآن کی تلاوت سے دور رہے۔