(۲۱۱۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ عَنْ أَنَسٍ کَانَ ابْنٌ لأُمِّ سُلَیْمٍ یُقَالُ لَہُ أَبُو عُمَیْرٍ کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- رُبَّمَا یُمَازِحُہُ إِذَا جَائَ فَدَخَلَ یَوْمًا یُمَازِحُہُ فَوَجَدَہُ حَزِینًا فَقَال : مَا لِی أَرَی أَبَا عُمَیْرٍ حَزِینًا؟ ۔ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَاتَ نُغَیْرُہُ الَّذِی کَانَ یَلْعَبُ بِہِ فَجَعَلَ یُنَادِیہِ : یَا أَبَا عُمَیْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَیْرُ ۔ [صحیح]
(٢١١٦٧) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ام سلیم کا بیٹا تھا جس کو ابوعمیر کہا جاتا تھا۔ جب وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے ساتھ خوش طبعی فرماتے، ایک دن وہ آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے خوش طبعی کی لیکن وہ پریشان تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے ابو عمیر ! میں تجھ کو پریشان دیکھتا ہوں۔ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کی وہ چڑیا فوت ہوگئی جس سے وہ کھیلا کرتا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : اے ابو عمیر ! تیری چڑیا نے کیا کیا۔