(۲۱۱۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ کَانَ اسْمُہُ زَاہِرَ بْنَ حِزَامٍ أَوْ حَرَامٍ قَالَ وَکَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یُحِبُّہُ وَکَانَ دَمِیمًا فَأَتَاہُ النَّبِیُّ -ﷺ- یَوْمًا وَہُوَ یَبِیعُ مَتَاعَہُ فَاحْتَضَنَہُ مِنْ خَلْفِہِ وَہُوَ لاَ یُبْصِرُہُ فَقَالَ أَرْسِلْنِی مَنْ ہَذَا فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِیَّ فَجَعَلَ لاَ یَأْلُو مَا أَلْزَقَ ظَہْرَہُ بِصَدْرِ النَّبِیِّ -ﷺ- حِینَ عَرَفَہُ وَجَعَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ یَشْتَرِی الْعَبْدَ؟ ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِذًا وَاللَّہِ تَجِدُنِی کَاسِدًا۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : لَکِنْ عِنْدَ اللَّہِ لَسْتَ بِکَاسِدٍ أَوْ قَالَ لَکِنْ عِنْدَ اللَّہِ أَنْتَ غَالٍ ۔
لَمْ یُثْبِتْہُ شَیْخُنَا وَفِیہِ خِلاَفٌ فَقِیلَ حِزَامٌ وَقِیلَ حَرَامٌ قَالَ قَال عَبْدُالْغَنِیِّ الْحَافِظُ حَرَامٌ بِالرَّائِ أَصَحُّ۔[صحیح]
(٢١١٧٢) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ظاہر بن حزام یا حرام ایک دیہاتی آدمی تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور یہ سیاہ رنگ کا آدمی تھا۔ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور وہ اپنا سامان فروخت کررہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیچھے سے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا۔ اس کو نظر نہیں آرہا تھا، کہنے لگا : چھوڑو مجھے کون ہے، پھر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوشش کی وہ پہچان گیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں تو پہچاننے کے بعد اس نے اپنی کمر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سنیے کے ساتھ لگا دی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ اس غلام کو کون مجھ سے خریدے گا، وہ کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تب تو آپ مجھ کو بہت سستا پائیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لیکن تو اللہ کے ہاں سستا نہیں ہے بلکہ اللہ کے نزدیک تو قیمتی ہے۔