(۲۱۱۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الرَّفَّائُ البَغْدَادِیُّ أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ فِی وَلَدِ الزِّنَا : إِنَّ أَصْلَہُ لأَصْلُ سُوْئٍ وَإِذَا حَسُنَتْ حَالَتُہُ وَمُرُوئَ تُہُ جَازَتْ شَہَادَتُہُ وَکَانُوا یَرَوْنَ عِتْقَہُ حَسَنًا۔ [ضعیف]
(٢١١٨١) عبدالرحمن بن ابی زناد اپنے والد سے اور وہ مدینہ کے معتبر فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ حرامی بچہ کی اصل بری ہے، جب اس کی حالت اور صحبت اچھی ہو تو پھر گواہی کے قابل ہے، اس کو آزاد کردینا بھی اچھا ہے۔