(۲۱۱۸۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ صَلاَحٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ وَنَافِعُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ الْہَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ تَجُوزُ شَہَادَۃُ بَدَوِیٍّ عَلَی صَاحِبِ قَرْیَۃٍ ۔ وَہَذَا یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ وَرَدَ فِی الشَّہَادَۃِ عَلَی الاِعْتِبَارِ وَفِیمَا یُعْتَبَرُ أَنْ یَکُونَ الشَّاہِدُ فِیہِ مِنْ أَہْلِ الْخِبْرَۃِ الْبَاطِنَۃِ۔ قَالَ الشَّیْخُ أَبُو سُلَیْمَانَ الْخَطَّابِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِیمَا بَلَغَنِی عَنْہُ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ إِنَّمَا کَرِہِ شَہَادَۃَ أَہْلِ الْبَدْوِ لِمَا فِیہِمْ مِنَ الْجَفَائِ فِی الدِّینِ وَالْجَہَالَۃِ بِأَحْکَامِ الشَّرِیعَۃِ لأَنَّہُمْ فِی الْغَالِبِ لاَ یَضْبِطُونَ الشَّہَادَۃَ عَلَی وَجْہِہَا وَلاَ یُقِیمُونَہَا عَلَی حَقِّہَا لِقُصُورِ عِلْمِہِمْ عَمَّا یُحِیلُہَا وَیُغَیِّرُہَا عَنْ جِہَتِہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
(٢١١٨٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ دیہاتی کی گواہی شہری کے خلاف جائز نہیں ہے، یہ شہادت کے معتبر ہونے کے اعتبار سے ہے، گواہ باطن کی خبروں کی بھی پہچان رکھتا ہو۔ شیخ ابو سلیمان خطابی فرماتے ہیں کہ دیہاتی کی شہادت اس لیے ناپسندیدہ ہے، کیونکہ یہ دین میں سختی اور شرعی احکام سے جہالت کی بنا پر ہے۔