(۲۱۱۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَنْبَأَنَا الشَّیْبَانِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ الثَّقَفِیِّ : أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَیْثٍ کَانَ یُجِیزُ شَہَادَتَہُ وَیَقُولُ کَذَلِکَ یُفْعَلُ بِالْخَائِنِ وَالْفَاجِرِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبِہَذَا نَقُولُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِیمَا حُکِیَ عَنْہُ لأَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَجَازَ شَہَادَۃَ الَّذِینَ رَصَدُوا رَجُلاً یَزْنِی وَلَکِنْ لَمْ یَتِمُّوا أَرْبَعَۃً قَالَ وَہَذَا أَشْبَہُ الْقَوْلَیْنِ۔ [صحیح]
(٢١١٩٠) عبداللہ ثقفی حضرت عمرو بن حریث سے نقل فرماتے ہیں کہ اس کی گواہی جائز نہیں ہے، اسی طرح خائن اور فاجر کی گواہی بھی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ان لوگوں کی گواہی کو قبول کیا جنہوں نے زانی کو پکڑا، لیکن چار گواہ پورے نہ ہوئے۔