(۲۱۱۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ قَالَ : سَأَلْتُ الزُّہْرِیَّ عَنْ رَجُلٍ شَہِدَ عِنْدَ الإِمَامِ فَأَثْبَتَ الإِمَامُ شَہَادَتَہُ ثُمَّ دُعِیَ لَہَا فَبَدَّلَہَا أَتَجُوزُ شَہَادَتُہُ الأُولَی أَوِ الآخِرَۃُ؟ قَالَ : لاَ شَہَادَۃَ لَہُ فِی الأُولَی وَلاَ فِی الآخِرَۃِ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا فِی الرُّجُوعِ قَبْلَ إِمْضَائِ الْحُکْمِ بِالأُولَی۔
(٢١١٩٥) اوزاعی فرماتے ہیں کہ میں نے زہری سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا، جس نے امام احمد (رح) کے پاس گواہی دی تو انھوں نے اس کی گواہی کو ثابت رکھا، لیکن دوبارہ اس نے اپنی گواہی تبدیل کردی۔
پوچھا گیا : پہلی گواہی درست ہے یا بعد والی ؟ فرمایا : کوئی بھی قابل قبول نہیں ہے۔