(۲۱۱۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ الْجَہْضَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دَاوُدَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ : أَنَّ امْرَأَتَیْنِ کَانَتَا تَخْرِزَانِ فِی بَیْتٍ فَخَرَجَتْ إِحْدَاہُمَا وَقَدْ أُنْفِذَ بِإِشْفَی فِی کَفِّہَا فَرُفِعَتْ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لَوْ یُعْطَی النَّاسُ بِدَعْوَاہُمْ لَذَہَبَ دِمَائُ قَوْمٍ وَأَمْوَالُہُمْ ذَکِّرُوہَا بِاللَّہِ وَاقْرَئُ وا عَلَیْہَا {اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا} [اٰل عمران ۷۷] فَذَکَّرُوہَا فَاعْتَرَفَتْ۔
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : الْیَمِینُ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِیٍّ۔ عَلَی ہَذَا رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح]
(٢١١٩٩) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ دو عورتیں گھر میں کانٹے پہنے ہوئی تھیں۔ ایک آئی تو ستالی اس کی ہتھیلی سے گرگئی۔ وہ ابن عباس (رض) کے پاس آئی۔
آپ (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کی بنیاد پر دیا جاتا رہے تو وہ اپنے خون اور مال کو لے جائیں، ان کو اللہ کی وعظ و نصیحت کرو اور ان پر یہ آیت تلاوت کرو : { اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا } [اٰل عمران ٧٧] کہ یہ اللہ عہد اور اپنی قسموں سے تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں، ان کو وعظ و نصیحت کی گئی۔ اس عورت نے اعتراف کرلیا۔
(ب) ابن عباس (رض) نے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے۔