(۲۱۲۰۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ ہُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ : رُفِعَ إِلَیَّ امْرَأَۃٌ تَزْعُمُ أَنَّ صَاحِبَتَہَا وَجَأَتْہَا بِإِشْفَی حَتَّی ظَہَرَ مِنْ کَفِّہَا فَسَأَلَتْ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لَوْ یُعْطَی النَّاسُ بِدَعْوَاہُمْ لاَدَّعَی رِجَالٌ دِمَائَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَہُمْ وَلَکِنَّ الْبَیِّنَۃَ عَلَی الطَّالِبِ وَالْیَمِینَ عَلَی الْمَطْلُوبِ ۔
[صحیح]
(٢١٢٠٠) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس آئی کہ اس کی سہیلی نے اس کی ستالی لے لی ہے۔ جو اس نے پہن رکھی ہے، اس نے ابن عباس (رض) سے سوال کیا، فرمانے لگے : اگر لوگ اپنے دعوؤں کی بنیاد پر دیے جانے لگے تو لوگ مالوں اور خونوں کے دعوے کردیں گے، لیکن دلیل طلب کرنے والے کے ذمے ہے اور قسم جس سے طلب کیا جا رہا ہے اس کے ذمے ہے۔