(۲۱۲۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنْا الْحَسَنُ بْنُ سَہْلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ وَعُثْمَانُ بْنُ الأَسْوَدِ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ : کُنْتُ قَاضِیًا لاِبْنِ الزُّبَیْرِ عَلَی الطَّائِفِ فَذَکَرَ قِصَّۃَ الْمَرْأَتَیْنِ قَالَ فَکَتَبْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَکَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لَوْ یُعْطَی النَّاسُ بِدَعْوَاہُمْ لاَدَّعَی رِجَالٌ أَمْوَالَ قَوْمٍ وَدِمَائَ ہُمْ وَلَکِنَّ الْبَیِّنَۃَ عَلَی الْمُدَّعِی وَالْیَمِینَ عَلَی مَنْ أَنْکَرَ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
ٰ[صحیح۔ متفق علیہ]
(٢١٢٠١) عثمان بن سود ابن ابی ملیکہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ابن زبیر کی طرف سے طائف کا قاضی تھا۔ اس نے دو عورتوں کا قصہ ذکر کیا۔ کہتے ہیں : میں نے ابن عباس (رض) کو خط لکھا تو ابن عباس (رض) نے جواب تحریر کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کی بنیاد پر دیا جانے لگا تو لوگ اپنی قوم کے اموال اور خون کے دعوے کردیں گے۔ لیکن دلیل مدعی کے ذمہ ہے اور قسم جو انکار کر دے۔