(۲۱۲۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی أَحَادِیثِ مَالِکٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا مَالِکٌ عَنْ جَمِیلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنِ : أَنَّہُ کَانَ یَحْضُرُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ إِذْ کَانَ عَامِلاً عَلَی الْمَدِینَۃِ وَہُوَ یَقْضِی بَیْنَ النَّاسِ فَإِذَا جَائَ ہُ الرَّجُلُ یَدَّعِی عَلَی الرَّجُلِ حَقًّا نَظَرَ فَإِنْ کَانَتْ بَیْنَہُمَا مُخَالَطَۃٌ وَمُلاَبَسَۃٌ حَلَّفَ الَّذِی ادَّعَی عَلَیْہِ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ شَیْئٌ مِنْ ذَلِکَ لَمْ یُحَلِّفْہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَہَذَا شَیْئٌ ذَہَبَ إِلَیْہِ عَلَی وَجْہِ الاِسْتِحْسَانِ وَکَذَلِکَ مَا رُوِّینَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّہُ قَالَ إِذَا ادَّعَی الرَّجُلُ الْفَاجِرُ عَلَی الرَّجُلِ الصَّالِحِ الشَّیْئَ الَّذِی یَرَی النَّاسُ أَنَّہُ کَاذِبٌ وَأَنَّہُ لَمْ یَکُنْ بَیْنَہُمَا مُعَامَلَۃٌ لَمْ یُسْتَحْلَفْ لَہُ وَالأَحَادِیثُ الَّتِی ذَکَرْنَاہَا تُخَالِفُہُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی کِتَابِ الدَّعْوَی الْیَمِینُ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ سَوَائٌ کَانَتْ بَیْنَہُمَا مُخَالَطَۃٌ أَوْ لَمْ تَکُنْ۔ [ضعیف]
(٢١٢٠٩) جمیل بن عبدالرحمن مؤذن عمر بن عبدالعزیز (رح) کے پاس حاضر ہوئے جس وقت وہ مدینہ کے حکمران تھے، وہ لوگوں کے درمیان فیصلے کرتے تھے۔ اچانک ایک آدمی نے دوسرے کے خلاف دعویٰ کردیا ۔ اگر وہ دیکھتے کہ دونوں کو درمیان میل جول ہے کہ مدعیٰ علیہ پر قسم ڈال دیتے۔ اگر ان دونوں کا آپس میں میل جول نہ ہوتا تو پھر قسم نہ ڈالتے۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ مدعی علیہ کے ذمہ قسم ہوگی چاہے مدعی اور مدعی علیہ کے درمیان میل جول ہو یا نہ ہو۔