(۲۱۲۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ کِنْدَۃَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ الْحَضْرَمِیُّ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنُّ ہَذَا قَدْ غَلَبَنِی عَلَی أَرْضٍ کَانَتْ لِی۔ فَقَالَ الْکِنْدِیُّ : ہِیَ أَرْضِی فِی یَدِی أَزْرَعُہَا لَیْسَ لَہُ فِیہَا حَقٌّ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لِلْحَضْرَمِیِّ أَلَکَ بَیِّنَۃٌ ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : فَلَکَ یَمِینُہُ؟ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہُ رَجُلٌ فَاجِرٌ لَیْسَ یُبَالِی مَا حَلَفَ عَلَیْہِ لَیْسَ یَتَوَرَّعُ مِنْ شَیْئٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : لَیْسَ لَکَ مِنْہُ إِلاَّ ذَلِکَ ۔ فَانْطَلَقَ لِیَحْلِفَ قَالَ فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمَا إِنَّہُ إِنْ حَلَفَ عَلَی مَالٍ لِیَأْکُلَہُ ظُلْمًا لَقِیَ اللَّہَ وَہُوَ عَنْہُ مُعْرِضٌ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَجَمَاعَۃٍ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۹]
(٢١٢١٠) حضرت علقمہ بن وائل بن حجر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضر موت اور کندہ قبیلے کے دو آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ ضرمی کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! اس نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے۔ کندی کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ میری زمین ہے، میں اس میں کھیتی باڑی کرتا ہوں اور اس کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرمی سے کہا کہ آپ کے پاس دلیل ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرمی سے کہا کہ آپ کے پاس دلیل ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے اس کی جانب سے قسم ہے کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ فاجر آدمی ہے اس کو قسم کی کیا پروا یہ کسی چیز سے نہیں بچتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے یہی ہے۔ وہ آدمی قسم اٹھانے کے لیے چلا۔ جب وہ واپس مڑا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس بندے نے قسم اٹھائی تاکہ وہ دوسرے کا ظلم کی وجہ سے مال کھا سکے تو کل وہ اللہ رب العزت سے ملاقات کرے گا تو اللہ اس سے منہ موڑنے والے ہوں گے۔