(۲۱۲۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنْا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ جَرِیرٍ ہُوَ ابْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَدِیَّ بْنَ عَدِیٍّ الْکِنْدِیَّ یُحَدِّثُ فِی حَلْقَۃٍ بِمِنًی قَالَ حَدَّثَنِی رَجَائُ بْنُ حَیْوَۃَ وَالْعُرْسُ بْنُ عَمِیرَۃَ عَنْ عَدِیِّ بْنِ عَمِیرَۃَ الْکِنْدِیِّ : أَنَّ امْرَأَ الْقَیْسِ بْنِ عَابِسٍ الْکِنْدِیَّ خَاصَمَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- رَجُلاً مِنْ حَضْرَمَوْتَ فِی أَرْضٍ فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْحَضْرَمِیَّ الْبَیِّنَۃَ فَلَمْ تَکُنْ لَہُ بَیِّنَۃٌ فَقَضَی عَلَی امْرِئِ الْقَیْسِ بِالْیَمِینِ۔ فَقَالَ الْحَضْرَمِیُّ : أَمْکَنْتَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ مِنَ الیَمِینِ ذَہَبَتْ وَاللَّہِ أَرْضِی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ کَاذِبَۃٍ لِیَقْتَطِعَ بِہَا مَالَ أَخِیہِ لَقِیَ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ یَلْقَاہُ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ ۔ قَالَ وَقَالَ رَجُلٌ وَتَلاَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللَّہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ قَالَ فَقَالَ امْرُؤُ الْقَیْسِ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَمَاذَا لِمَنْ تَرَکَہَا؟ قَالَ : لَہُ الْجَنَّۃُ ۔ قَالَ : فَإِنِّی أُشْہِدُکَ أَنِّی قَدْ تَرَکْتُہَا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٢١٢١٢) عدی بن عدی کندی منیٰ کے میدان میں اپنے شاگردوں سی فرمایا رجا بن حیوہ اور عرس بن عمیرہ نے عدی بن عمیرہ کندی سے نقل کیا ہے کہ امرء القیس بن عابس کندی اور حضر موت کا ایک آدمی زمین کا جھگڑا لے کر آئے۔ حضرمی سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دلیل کا سوال کیا تو اس کے پاس دلیل نہ تھی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امر القیس پر قسم ڈال دی تو حضرمی کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ قسم کے ذریعے میری زمین لے جائے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے جھوٹی قسم کے ذریعے اپنے مسلمان بھائی کا مال لیا وہ قیامت والے دن اللہ سے ملاقات کرے گا، اس حال میں کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت کی : { اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا } [اٰل عمران ٧٧] ” وہ لوگ جو اپنی قسموں اور اللہ کے عہد کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔ “ امرء القیس کہنے لگا : جو اس جھگڑا کو چھوڑ دے اس کو کیا ملے گا ؟ فرمایا : جنت۔ وہ کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! گواہ ہوجائیں میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے۔