(۲۱۲۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السَّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ خِلاَسٍ عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلَیْنِ اخْتَصَمَا فِی مَتَاعٍ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- لَیْسَ لِوَاحِدٍ مِنْہُمَا بَیِّنَۃٌ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : اسْتَہِمَا عَلَی الیَمِینِ مَا کَانَا أَحَبَّا ذَلِکَ أَوْ کَرِہَا ۔ [صحیح۔ ابن ابی شیبہ ۶/ ۳۱۸]
(٢١٢١٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ دو شخص سامان کے بارے میں جھگڑا لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ دلیل کسی کے پاس موجود نہ تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دونوں میں قرعہ اندازی کرو، اگرچہ دونوں کو پسند ہو یا ناپسند۔