(۲۱۲۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ بِإِسْنَادِہِ مِثْلَہُ۔ قَالَ فِی دَابَّۃٍ وَلَیْسَ لَہُمَا بَیِّنَۃٌ فَأَمَرَہُمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَسْتَہِمَا عَلَی الیَمِینِ۔
قَالَ الشَّیْخُ : فَیُحْتَمَلُ أَنْ تَکُونَ ہَذِہِ الْقَضِیَّۃُ مِنْ تَتِمَّۃِ الْقَضِیَّۃِ الأُولَی فِی حَدِیثِ أَبِی بُرْدَۃَ فَکَأَنَّہُ -ﷺ- جَعَلَ ذَلِکَ بَیْنَہُمَا نِصْفَیْنِ بِحُکْمِ الْیَدِ فَطَلَبَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا یَمِینَ صَاحِبِہِ فِی النِّصْفِ الَّذِی حَصَلَ لَہُ فَجَعَلَ عَلَیْہِمَا الیَمِینَ فَتَنَازَعَا فِی الْبِدَایَۃِ بِأَحَدِہِمَا فَأَمَرَہُمَا أَنْ یَقْتَرِعَا عَلَی الیَمِینِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٢١٢١٦) سعید بن عروبہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ جھگڑا ایک جانور کے متعلق تھا، لیکن دلیل کسی کے پاس موجود نہ تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دونوں کے درمیان قسم کے لیے قرعہ اندازی کرلی جائے۔
شیخ فرماتے ہیں : دونوں کا قبضہ ہو تو قسم دونوں کے ذمہ ہے۔ جب تنازع ابتدا میں ہو تو پھر قرعہ اندازی کی جائے۔