(۲۱۲۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ أَنْبَأَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ یُونُسَ وَابْنِ عَوْنٍ وَہِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ شُرَیْحٍ : أَنَّ رَجُلَیْنِ ادَّعَیَا دَابَّۃً فَأَقَامَ أَحَدُہُمَا الْبَیِّنَۃَ وَہِیَ فِی یَدِہِ أَنَّہُ نَتَجَہَا وَأَقَامَ الآخَرُ بَیِّنَۃً أَنَّہُ دَابَّتُہُ عَرَفَہَا۔ فَقَالَ شُرَیْحٌ : النَّاتِجُ أَحَقُّ مِنَ الْعَارِفِ۔
[صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٢١٢٢٦) ابن سیرین قاضی شریح سے نقل فرماتے ہیں کہ دو آدمی ان کے پاس ایک چوپائے کا جھگڑا لے کر آئے۔ دونوں کے پاس گواہ موجود تھے کہ اس چوپائے نے ان کے گھر جنم دیا ہے تو قاضی شریح نے فرمایا : جس کے گھر چوپائے نے جنم دیا وہ زیادہ پہچاننے والے سے حق دا رہے