(۲۱۲۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ دَاوُدَ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : کَتَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُذَیْنَۃَ إِلَی شُرَیْحٍ فِی نَاسٍ مِنَ الأَزْدِ ادَّعَوْا قِبَلَ نَاسٍ مِنْ بَنِی أَسَدٍ قَالَ وَإِذَا غَدَا ہَؤُلاَئِ بِبَیِّنَۃٍ رَاحَ أُولَئِکَ بِأَکْثَرَ مِنْہُمْ قَالَ فَکَتَبَ إِلَیْہِ لَسْتُ مِنَ التَّہَاتُرِ وَالتَّکَاثُرِ فِی شَیْئٍ الدَّابَّۃُ لِمَنْ ہِیَ فِی أَیْدِیہِمْ إِذَا أَقَامُوا الْبَیِّنَۃَ۔ وَرُوِّینَا عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ لاَ یُرَجَّحُ بِکَثْرَۃِ الْعَدَدِ۔ [ضعیف]
(٢١٢٢٧) شعبی فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن اذینہ نے قاضی شریح کو ازد کے لوگوں کی جانب سے جنہوں نے بنو اسد کی طرف سے دعویٰ کیا تھا خط لکھا۔ صبح کے وقت یہ بہت زیادہ گواہ لے کر آئے تو قاضی نے کہا : میں گواہوں کی کثرت سے مرعوب نہیں ہوتا۔ چوپایہ ان کے قبضہ میں رہے گا جب ان کے پاس گواہ ہوں گے۔
(ب) حنش حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ کثرت تعداد کی وجہ سے ترجیح نہ دی جائے گی۔