(۲۱۲۴۲) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی قَالَ : اخْتَصَمَ رَجُلاَنِ إِلَی أَبِی الدَّرْدَائِ فِی فَرَسٍ فَأَقَامَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا الْبَیِّنَۃَ أَنَّہُ أُنْتِجَ عِنْدَہُ لَمْ یَبِعْہُ وَلَمْ یَہَبْہُ وَجَائَ الآخَرُ بِمِثْلِ ذَلِکَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : إِنَّ أَحَدَکُمَا کَاذِبٌ فَقَسَمَہُ بَیْنَہُمَا نِصْفَیْنِ۔ [حسن۔ تقدم قبلہ]
وَرُوِیَ فِی ہَذِہِ الْقَصَّۃِ اخْتَصَمَا فِی فَرَسٍ وَجَدَاہُ مَعَ رَجُلٍ۔ [حسن۔ تقدم قبلہ]
(٢١٢٤٢) عبدالرحمن بن ابی یعلی فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے گھوڑے کا جھگڑا پیش کیا۔ دونوں نے دلائل بھی پیش کیے کہ اس نے ان کے ہاں جنم لیا ہے۔ اس نے فروخت یا ہبہ نہیں کیا تو ابودردا فرمانے لگے : تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے اور ان میں برابر تقسیم کردیا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اس طرح کے مسئلہ میں توقف اختیار کرتا ہوں۔ ان دونوں کو صلح کی صورت میں کچھ دیا جائے، وگرنہ کچھ بھی نہ دیا جائے۔