(۲۱۲۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُنْدَارٍ أَخْبَرَنِی إِبْرَاہِیمُ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ عَنْ قَیْسِ بْنِ الرَّبِیعِ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ وَعَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی قَالَ : إِنِّی لَجَالِسٌ عِنْدَ أَبِی الدَّرْدَائِ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ وَقَالَ فِی فَرَسٍ وَجَدَاہُ مَعَ رَجُلٍ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی مِثْلِ ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ بَعْدَ ذِکْرِ الْفَرَسِ وَہَذَا مِمَّا أَسْتَخِیرُ اللَّہَ فِیہِ وَأَنَا فِیہِ وَاقِفٌ ثُمَّ قَالَ لاَ یُعْطَی وَاحِدٌ مِنْہُمَا شَیْئًا وَیُوقَفُ حَتَّی یَصْطَلِحَا۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَالأَصْلُ فِی أَمْثَالِ ذَلِکَ مَا۔ [حسن۔ تقدم قبلہ]
(٢١٢٤٣) عبدالرحمن بن ابی یعلی فرماتے ہیں کہ میں ابودرداء (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اسی جیسی حدیث بیان کی کہ انھوں کے گھوڑے کے ساتھ ایک آدمی کو بھی پایا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اس طرح کے مسئلہ میں توقف اختیار کرتا ہوں۔ ان دونوں کو صلح کی صورت میں کچھ دیا جائے وگرنہ کچھ بھی نہ دیا جائے۔