(۲۱۲۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَنْبَأَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ : جَائَ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَخْتَصِمَانِ فِی مَوَارِیثَ قَدْ دَرَسَ عَلَیْہَا وَہَلَکَ مَنْ یَعْرِفُہَا فَقَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَقْضِی فِیمَا لَمْ یُنْزَلْ عَلَیَّ فِیہِ شَیْئٌ بِرَأْیِی فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ شَیْئًا مِنْ حَقِّ أَخِیہِ فَإِنَّمَا یَقْتَطِعُ إِسْطَامًا مِنْ نَارٍ ۔قَالَ : فَبَکَیَا وَقَالَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا حَقِّی لَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : اذْہَبَا فَاقْسِمَا وَتَوَخَّیَا الْحَقَّ ثُمَّ اسْتَہِمَا ثُمَّ لِیَحْلِلْ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْکُمَا صَاحِبَہُ ۔ [ضعیف]
(٢١٢٤٤) سیدہ ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ دو انصاری وراثت کا جھگڑا لے کر آئے، وہ جانتے تھے لیکن جن کو پہچان تھی وہ فوت ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں انسان ہوں جس کے بارے میں میرے اوپر کچھ نازل نہیں ہوا ، میں اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا۔ جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ فرما دوں تو گویا آگ کا انگارہ دے رہا ہوں، وہ دونوں رو رہے تھے اور کہنے لگے : میرا حق اس کو دے دیں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ آپس میں تقسیم کرلو۔ بھائی چارہ قائم کرلو۔ پھر قرعہ اندازی کرلو۔ پھر ہر ایک کے لیے جائز ہوگا۔