(۲۱۲۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَنْبَأَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ یَسْتَحِقُّ بِہَا مَالاً وَہُوَ فِیہَا فَاجِرٌ لَقِیَ اللَّہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ قَالَ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِیقَ ذَلِکَ { إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللَّہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنا قَلِیلاً } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ۔ ثُمَّ إِنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَیْسٍ خَرَجَ إِلَیْنَا فَقَالَ : مَا یُحَدِّثُکُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَحَدَّثْنَاہُ بِمَا قَالَ فَقَالَ صَدَقَ لَفِیَّ نَزَلَتْ کَانَتْ بَیْنِی وَبَیْنَ رَجُلٍ خُصُومَۃٌ فِی شَیْئٍ فَاخْتَصَمْنَا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : شَاہِدَاکَ أَوْ یَمِینُہُ ۔ فَقُلْتُ : إِنَّہُ إِذًا یَحْلِفَ وَلاَ یُبَالِیَ۔ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ لِیَسْتَحِقَّ بِہَا مَالاً وَہُوَ فِیہَا فَاجِرٌ لَقِیَ اللَّہَ وَہُوَ عَلیْہِ غَضْبَانُ ۔ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِیقَ ذَلِکَ ثُمَّ قَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُثْمَانَ وَقُتَیْبَۃَ عَنْ جَرِیرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
(٢١٢٤٦) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ جو قسم اٹھاکر مال کا مستحق بنتا ہے اور وہ جھوٹا ہے تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوں گے۔ پھر اس کی تصدیق اللہ نے نازل کی :{ اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا } [اٰل عمران ٧٧] ” وہ لوگ جو اپنی قسموں اور اللہ کے عہد کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔ “
پھر اشعث بن قیس ہماری طرف آئے اور کہنے لگے : ابوعبدالرحمن نے کیا بیان کیا ؟ جو انھوں نے بیان کیا ہم نے کہہ دیا، کہنے لگے : یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ میرے اور ایک آدمی کے درمیان جھگڑا تھا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گواہ تیرے ذمہ یا اس سے قسم تم لے لو۔ میں نے کہا : وہ قسم اٹھا دے گا، اس کو کوئی پروا نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے قسم کی وجہ سے مال ہڑپ کرنا چاہا اور وہ جھوٹا ہوا تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا۔ اللہ نے اس کی تصدیق نازل کی ، پھر آپ نے یہ آیت کی تلاوت فرمائی۔