(۲۱۲۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَتَاہُ خَصْمَانِ فَقَالَ أَحَدُہُمَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ ہَذَا انْتَزَی عَلَی أَرْضٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَہُوَ امْرُؤُ الْقَیْسِ بْنُ عَابِسٍ الْکِنْدِیُّ وَخَصْمُہُ رَبِیعَۃُ فَقَالَ أَرْضِی أَزْرَعُہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَلَکَ بَیِّنَۃٌ؟ ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : یَمِینُہُ ۔ قَالَ : إِذًا یَذْہَبَ بِہَا إِنَّہُ لَیْسَ یُبَالِی مَا حَلَفَ عَلَیْہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّہُ لَیْسَ لَکَ مِنْہُ إِلاَّ ذَلِکَ ۔ فَلَمَّا ذَہَبَ لِیَحْلِفَ قَالَ : أَمَا إِنَّہُ إِنْ حَلَفَ عَلَی مَالِہِ ظُلْمًا لَقِیَ اللَّہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرٍ وَإِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۳۹]
(٢١٢٤٧) علقمہ بن وائل اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا۔ دو جھگڑا کرنے والے آئے، ایک نے کہا کہ دور جاہلیت میں اس نے میری زمین چھین لی تھی : 1 امرء القیس بن عابس اور 2 ربیعہ تھا۔ اس نے کہا : میری زمین ہے میں کھیتی باڑی کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تیرے پاس دلیل ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوسرا قسم دے گا۔ وہ کہنے لگا : وہ قسم اٹھا دے گا، اس کو کوئی پروا نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے اب صرف قسم ہی ہے، جب وہ قسم کے لیے جانے لگا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اس نے ظلم کے ساتھ مال ہڑپ کرنا چاہا تو اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوں گے۔