(۲۱۲۷۸) حضرت عائشہrفرماتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ کا ایکبچے کے بارے میں جھگڑا ہوا اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسولe! میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص نے مجھ سے وعدہ لیا تھا، آپ اس کی مشابہت کو دیکھ لیں اور عبد بن زمعہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہ میرے باپ کی لونڈی کے بطن سے ہے تو نبیe نے عتبہ بن ابی وقاص کے ساتھ ظاہری مشابہت دیکھی۔ آپe نے فرمایا: اے عبد بن زمعہ! بچہ بستر والے کے لیے ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں اور فرمایا: اے سودہ بنت زمعہ! آپ اس سے پردہ کیا کریں۔ سودہ کو اس نے کبھی نہیں دیکھا۔
(٢١٢٧٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ : حَجَّ بِنَا أَبُو الْوَلِیدِ وَنَحْنُ سَبْعَۃُ وَلَدِ سِیرِینَ فَمَرَّ بِنَا عَلَی الْمَدِینَۃِ فَأَدْخَلَنَا عَلَی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَقَالَ لَہُ ہَؤُلاَئِ بَنُو سِیرِینَ قَالَ فَقَالَ زَیْدٌ : ہَذَانِ لأُمٍّ وَہَذَانِ لأُمٍّ وَہَذَانِ لأُمٍّ وَہَذَا لأُمٍّ قَالَ ۔ فَمَا أَخْطَأَ وَکَانَ یَحْیَی بْنُ سِیرِینَ أَخُو مُحَمَّدٍ لأُمِّہِ ۔