(۲۱۲۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَخْتَرِیُّ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ : إِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہُ فِی بَطْنِ أُمِّہِ أَرْبَعِینَ یَوْمًا ثُمَّ یَکُونُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ یَکُونُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللَّہُ إِلَیْہِ الْمَلَکَ فَیَنْفُخُ فِیہِ الرُّوحَ ثُمَّ یُؤْمَرُ بِأَرْبَعٍ اکْتُبْ رِزْقَہُ وَعَمَلَہُ وَأَجَلَہُ وَشَقِیٌّ ہُوَ أَمْ سَعِیدٌ وَالَّذِی لاَ إِلَہَ غَیْرُہُ إِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ حَتَّی مَا یَکُونَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَیَسْبِقَ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمَ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَیَدْخُلَہَا وَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ حَتَّی مَا یَکُونَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَیَسْبِقَ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمَ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ فَیَدْخُلَہَا ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔
فَأَخْبَرَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنَّ جَمِیعَ خَلْقِہِ بَعْدَ أَرْبَعِینَ یَکُونُ عَلَقَۃً أَرْبَعِینَ یَوْمًا ثُمَّ جَمِیعُہُ بَعْدَ الثَّمَانِینَ یَکُونُ مُضْغَۃً أَرْبَعِینَ یَوْمًا وَمَنْ جَعَلَ الْوَلَدَ مِنِ اثْنَیْنِ أَجَازَ أَنْ یَکُونَ بَعْضُہُ مَائً وَبَعْضُہُ عَلَقَۃً وَبَعْضُہُ مَائً أَوْ عَلَقَۃً وَبَعْضُہُ مُضْغَۃً وَذَلِکَ بِخِلاَفِ الظَّاہِرِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢١٢٨٠) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ صادق المصدوق (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یقیناً تم میں سے ہر ایک ٤٠ دن تک اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے، پھر ٤٠ دن جما ہوا خون ہوتا ہے۔ پھر ٤٠ دن تک گوشت کا لوتھڑا۔ پھر اللہ فرشتے کو بھیج کر روح ڈلواتا ہے۔ پھر چار چیزوں کا حکم دیا جاتا ہے، اس کا رزق، عمل، عمر، خوش بخت ہے یا بدبخت لکھا جائے۔ اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ تم جہنم والے اعمال کرتے ہو، صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو لکھا (یعنی تقدیر) اس پر سبقت لے جاتا ہے، اس کا خاتمہ جنتیوں والے اعمال کرتے ہوئے ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے جنت میں داخل ہوجاتا ہے اور تم میں سے کوئی ایک جنتیوں والے اعمال کرتا ہے۔ صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو تقدیر سبقت لے جاتی ہے اور وہ جہنمیوں والے عمل کر کے جہنم میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہ صرف ایک بچہ کے لیے ہے۔ اگر دو ہوں تو پھر حالات مختلف ہوسکتے ہیں۔