(۲۱۳۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ الْیَعْمُرِیِّ عَنْ أَبِی نَجِیحٍ السُّلَمِیِّ قَالَ : حَاصَرْنَا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَصْرَ الطَّائِفِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ بَلَغَ بِسَہْمٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ لَہُ عِدْلُ مُحَرَّرٍ ۔ فَبَلَغْتُ یَوْمَئِذٍ سِتَّۃَ عَشَرَ سَہْمًا فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ رَمَی بِسَہْمٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ لَہُ دَرَجَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَمَنْ شَابَ شَیْبَۃً فِی الإِسْلاَمِ کَانَتْ لَہُ نُورًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَیُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلاً مُسْلِمًا فَإِنَّ اللَّہَ جَاعِلٌ وِقَائَ کُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِہِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِہِ مُحَرَّرَۃً مِنَ النَّارِ وَأَیُّمَا امْرَأَۃٍ مُسْلِمَۃٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَۃً مُسْلِمَۃً فَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وِقَائَ کُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِہَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِہَا مُحَرَّرَۃً مِنَ النَّارِ ۔ [صحیح]
(٢١٣١١) ابو نجیح سلمی فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر طائف کے محالات کا محاصرہ کیا تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا جس نے اللہ کے راستہ میں تیرے پھینکے ، وہ گردن کے آزاد کرنے کے برابر ہیں، میں نے اس دن چھ پھینکے تھے، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : جس نے اللہ کے راستہ میں تیر مارا اس کے لیے جنت میں درجہ ہوگا اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو آزاد کیا تو اللہ اس کے اعضاء کو اس کے اعضاء کے عوض جہنم سے بچا لے گا۔ جس مسلمان عورت نے مسلمان عورت کو آزاد کردیا تو اللہ اس کے تمام اعضاء کو اس کے تمام اعضاء کے عوض آزاد کر دے گا۔