(۲۱۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ قَالَ: کَانَ الْحَجَّاجُ یُؤَخِّرُ الصَّلاَۃَ ، فَسَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ فَقَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یُصَلِّی الظُّہْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَیَّۃٌ ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ ، وَالْعِشَائَ إِذَا رَأَی فِی النَّاسِ قِلَّۃً أَخَّرَ ، وَإِذَا رَأَی فِیہِمْ کَثْرَۃً عَجَّلَ وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ۔
مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ مضٰی تخریجہ فی الحدیث ۲۰۴۴]
(٢١٣٩) محمد بن عمرو بن حسن فرماتے ہیں کہ حجاج نماز کو تاخیر سے ادا کیا کرتا تھا۔ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے پوچھا تو انھوں نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز ادا کرتے جب سورج ڈھل چکا ہوتا اور عصر کی نماز ادا کرتے کہ ابھی سورج چمک رہا ہوتا اور مغرب کی نماز ادا کرتے جب سورج غروب ہوجاتا اور عشا کی نماز میں جب دیکھتے کہ لوگ کم ہیں تو موخر کرلیتے اور جب لوگ زیادہ ہوتے تو جلدی پڑھا دیتے اور صبح کی نماز اندھیرے میں ہی ادا فرماتے۔