(۲۱۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ أَخْبَرَنِی بَشِیرُ بْنُ أَبِی مَسْعُودٍ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَقَالَ فِیہِ: ثُمَّ صَلَّی الصُّبْحَ بِغَلَسٍ، ثُمَّ صَلاَّہَا یَوْمًا فَأَسْفَرَ بِہَا ثُمَّ لَمْ یَعُدْ إِلَی الإِسْفَارِ حَتَّی قَبَضَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ۔ [صحیح۔ مضٰی تخریجہ فی الحدیث ۱۷۰۱]
(٢١٤٠) ابو مسعود (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں، پھر مکمل حدیث ذکر کی، اس میں یہ بھی فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کی، پھر ایک دن خوب روشنی میں ادا کی، پھر دوبارہ کبھی روشنی میں ادا نہیں کی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کرلی۔