(۲۱۳۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ أَوْصَی عِنْدَ مَوْتِہِ فَأَعْتَقَ سِتَّۃَ مَمَالِیکَ لَیْسَ لَہُ مَالٌ غَیْرُہُمْ أَوْ قَالَ أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِہِ سِتَّۃَ مَمَالِیکَ لَہُ وَلَیْسَ لَہُ شَیْئٌ غَیْرُہُمْ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ فِیہِ قَوْلاً شَدِیدًا ثُمَّ دَعَاہُمْ فَجَزَّأَہُمْ ثَلاَثَۃَ أَجْزَائٍ فَأَقْرَعَ بَیْنَہُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَیْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَۃً۔
[صحیح۔ مسلم ۱۶۶۸]
(٢١٣٩٠) عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ انصاری مرد نے اپنی موت کے وقت چھ غلام آزاد کردیے۔ اس کا اور کوئی غلام نہ تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر ملی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں سخت کلام کی، پھر غلاموں کو منگوا کر تین حصوں میں تقسیم کردیا، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، دو کو آزاد کردیا، چار کو غلام رکھا۔