(۲۱۳۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا عَمْرٌو یَعْنِی ابْنَ حَمَّادٍ الْقَنَّادَ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ عَنْ سِمَاکٍ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ : أَنَّہُ مَاتَ رَجُلٌ وَتَرَکَ سِتَّۃَ رِجَالٍ فَأَعْتَقَہُمْ عِنْدَ مَوْتِہِ فَجَائَ وَرَثَتُہُ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : لَوْ عَلِمْنَا مَا صَلَّیْنَا عَلَیْہِ ۔ وَقَالَ : ادْعُہُمْ لِی ۔ فَدَعَاہُمْ فَأَقْرَعَ بَیْنَہُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَیْنِ وَرَدَّ أَرْبَعَۃً فِی الرِّقِّ۔
[صحیح۔ تقدم]
(٢١٣٩٨) حسن بصری حضرت عمران بن حصین سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی فوت ہوگیا، چھ غلام چھوڑے، ان کو اپنی موت کے وقت آزاد کردیا، اس کے ورثاء نے آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر ہمیں معلوم ہوتا ہم اس کا نمازِ جنازہ نہیں پڑھتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلاموں کو بلاؤ، ان کو بلایا گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا اور دو کو آزاد کردیا اور چار کو غلام رکھا۔