(۲۱۴۱۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمٍ بِمَرْوٍ أَنْبَأَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَنْبَأَنَا عَبْدَانُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أُمِّ الْعَلاَئِ قَالَ وَہِیَ امْرَأَۃٌ مِنْ نِسَائِہِمْ کَانَتْ بَایَعَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَتْ : طَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فِی السُّکْنَی حِینَ اقْتَرَعَتِ الأَنْصَارُ عَلَی سُکْنَی الْمُہَاجِرِینَ فَاشْتَکَی فَمَرَّضْنَاہُ حَتَّی تُوُفِّیَ ثُمَّ جَعَلْنَاہُ فِی أَثْوَابِہِ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ رَحْمَۃُ اللَّہِ عَلَیْکَ أَبَا السَّائِبِ فَشَہَادَتِی أَنْ قَدْ أَکْرَمَکَ اللَّہُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : وَمَا یُدْرِیکِ؟ ۔ قَالَتْ : وَاللَّہِ مَا أَدْرِی یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : أَمَّا ہُوَ فَقَدْ جَائَ ہُ الْیَقِینُ وَإِنِّی لأَرْجُو لَہُ الْخَیْرَ مِنَ اللَّہِ وَاللَّہِ مَا أَدْرِی وَأَنَا رَسُولُ اللَّہِ مَا یُفْعَلُ بِہِ وَلاَ بِکُمْ ۔ قَالَتْ أُمُّ الْعَلاَئِ : فَوَاللَّہِ لاَ أُزَکِّی أَحَدًا أَبَدًا قَالَتْ وَأُرِیتُ لِعُثْمَانَ فِی النَّوْمِ عَیْنًا تَجْرِی فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرْتُ لَہُ فَقَالَ : ذَاکَ عَمَلُہُ یَجْرِی لَہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۲۴۳]
(٢١٤١٢) خارجہ بن زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ ام العلاء نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی تھی، فرماتی ہیں کہ حضرت عثمان بن مظعون کی رہائش جب انصاری نے قرعہ ڈالا مہاجرین کی رہائش کے لیے، ہمارے نزدیک تھی۔ وہ بیمار ہو کر فوت ہوگئے۔ ہم نے ان کے کپڑوں میں ان کو کفن دیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آئے اور میں نے کہا : آپ پر اللہ کی رحمتیں ہوں اے ابو سائب ! میری گواہی ہے کہ اللہ آپ کو عزت دے گا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ کو کیا معلوم ؟ کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسول ! میں نہیں جانتی، مجھے یقین ہے اور میں اللہ سے امید کرتی ہوں کہ اللہ اس کے ساتھ بھلائی والا معاملہ فرمائیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن مجھے معلوم نہیں کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں کبھی بھی کسی کا تزکیہ نہ کروں گی ۔ کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن مظعون کو خواب میں ایک جاری چشمے پر دیکھا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اس کا جاری ہونے والا عمل ہے۔