(۲۱۴۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ہُوَ ابْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ہُوَ ابْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِی بَرِیرَۃَ فَاشْتَرَطُوا الْوَلاَئَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : اشْتَرِیہَا فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْطَی الثَّمَنَ وَوَلِیَ النِّعْمَۃَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَمٍ عَنْ وَکِیعٍ۔
وَاحْتَجَّ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی ذَلِکَ أَیْضًا بِأَنَّ النَّسَبَ شَبِیہٌ بِالْوَلاَئِ وَالْوَلاَئُ شَبِیہٌ بِالنَّسَبِ وَلَوْ أَنَّ رَجُلاً لاَ أَبَا لَہُ یُعْرَفُ سَأَلَ رَجُلاً أَنْ یَنْسِبَہُ إِلَی نَفْسِہِ وَرَضِیَ ذَلِکَ الرَّجُلُ لَمْ یَجُزْ أَنْ یَکُونَ لَہُ ابْنًا أَبَدًا وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ۔ وَکَذَلِکَ إِذَا لَمْ یُعْتِقُ الرَّجُلُ رَجُلاً لَمْ یَجُزْ أَنْ یَکُونَ مَنْسُوبًا إِلَیْہِ بِالْوَلاَئِ فَیُدْخِلَ عَلَی عَاقِلَتِہِ الْمَظْلَمَۃَ فِی عَقْلِہِمْ عَنْہُ وَیَنْسِبُ إِلَی نَفْسِہِ وَلاَئَ مَنْ لَمْ یُعْتِقْ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ قَالَ وَبَیَّنَ فِی قَوْلِہِ : إِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ أَنَّہُ لاَ یَکُونُ الْوَلاَئُ إِلاَّ لِمَنْ أَعْتَقَ۔ [صحیح۔ تقدم]
(٢١٤٥٢) عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ اسود حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے بریرہ کو خریدنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو خرید ولاء اس کا حق ہے جس نے قیمت ادا کی اور نعمت کا والی بنا۔
امام شافعی (رح) نے فرمایا : نسب ولاء کے مشابہہ ہے اور ولاء نسب کے مشابہہ ہے۔ اگر ایک آدمی کا باپ معروف نہیں ہے، ایک آدمی نے سوال کیا کہ وہ اپنا نسب بیان کرے، وہ آدمی راضی ہوجاتا ہے لیکن یہ جائز نہیں کہ وہ ہمیشہ اس کا بیٹا ہی رہے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بچہ بستر والے کے لیے ہے، اس طرح جو مرد کسی کو آزاد نہیں کرتا اس کی جانب ولاء کی نسبت ہو جائز نہیں ہے، وگرنہ وہ اپنے عاقلہ پر ظلم کرے گا۔ ولاء کی نسبت اپنی طرف کرنا حالانکہ اس نے آزاد نہیں کیا، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ولاء اس کے لیے ہے جس نے آزاد کیا، اس قول سے بھی واضح ہے کہ ولاء اس کی ہے جس نے آزاد کیا۔