(۲۱۴۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَنْبَأَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَنْبَأَنَا سُفْیَانُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی قَیْسٍ عَنْ ہُزَیْلِ بْنِ شُرَحْبِیلَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ : إِنِّی أَعْتَقَتُ غُلاَمًا لِی وَجَعَلْتُہُ سَائِبَۃً فَمَاتَ وَتَرَکَ مَالاً فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : إِنَّ أَہْلَ الإِسْلاَمِ لاَ یُسَیِّبُونَ إِنَّمَا کَانَتْ تُسَیِّبُ أَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِ وَأَنْتَ وَارِثُہُ وَوَلِیُّ نِعْمَتِہِ فَإِنْ تَحَرَّجْتَ مِنْ شَیْئٍ فَأَدْنَاہُ نَجْعَلُہُ فِی بَیْتِ الْمَالِ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مُخْتَصَرًا عَنْ قَبِیصَۃَ عَنْ سُفْیَانَ وَرَوَاہُ الشَّعْبِیُّ وَالنَّخَعِیُّ وَغَیْرُہُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ مُرْسَلاً مُخْتَصَرًا۔
وَرُوِیَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ مَوْصُولاً وَقَالَ فِی رِوَایَتِہِ : فَإِنْ أَبَیْتَ فَہَا ہُنَا وَارِثُونَ کَثِیرٌ فَجَعَلَہُ فِی بَیْتِ الْمَالِ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۷۵۳]
(٢١٤٧٣) ہزیل بن شرحبیل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ابن مسعود (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نے اپنا ایک غلام آزاد کردیا ہے اور میں نے اس کو سائبہ مقرر کیا تھا۔ وہ فوت ہوگیا اور اس نے مال چھوڑا ہے۔ عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ مسلمان سائبہ نہ چھوڑتے تھے بلکہ جاہلیت میں سائبہ چھوڑا جاتا تھا، آپ اس کے وارث ہیں اور اس کی ولاء کے بھی حق دار ہیں۔ اگر آپ کو گناہ یا حرج محسوس ہوتا ہے تو ہم اس کو بیت المال میں جمع کرا دیتے ہیں۔
(ب) علقمہ حضرت عبداللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر آپ انکار کرتے ہیں تو یہاں وارث بہت ہیں، انھوں نے بیت المال میں جمع کروا دیا۔