(۲۱۴۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَنْبَأَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَنْبَأَنَا عُقْبَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصَمُّ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ : أَنَّ طَارِقَ أَعْتَقَ رَجُلاً سَائِبَۃً فَمَاتَ السَّائِبَۃُ وَتَرَکَ مَالاً فَرُفِعَ مَالُہُ إِلَی صَاحِبِ مَکَّۃَ فَأَرْسَلَ إِلَی طَارِقٍ فَعَرَضَ مَالَہُ عَلَیْہِ فَأَبَی طَارِقٌ أَنْ یَأْخُذَہُ فَکَتَبَ عَامِلُ مَکَّۃَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنِ اجْمَعِ الْمَالَ وَاعْرِضْہُ عَلَی طَارِقٍ فَإِنْ قَبْلَہُ فَادْفَعْہُ إِلَیْہِ وَإِنْ لَمْ یَقْبَلْہُ فَاشْتَرِ بِہِ رِقَابًا فَأَعْتِقْہُمْ قَالَ فَعَرَضَ عَلَی طَارِقٍ فَلَمْ یَقْبَلْہُ فَاشْتَرَی بِہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ أَوْ سِتَّۃَ عَشَرَ مَمْلُوکًا فَأَعْتَقَہُمْ قَالَ عُقْبَۃُ کَأَنِّی أَرَی عَطَائً وَہُوَ یَعْقِدُ بِیَدِہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ أَوْ سِتَّۃَ عَشَرَ۔
وَرَوَاہُ قَتَادَۃُ وَقَیْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ فِیہِ فَکَتَبَ یَعْلَی بْنُ مُنْیَۃَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ أَحَقُّ بِمِیرَاثِہِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ عَطَائٌ سَمِعَہُ مِنْ طَارِقٍ وَإِنْ لَمْ یَسْمَعْہُ مِنْہُ فَحَدِیثُ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ مُرْسَلٌ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ یَعْنِی مَا رَوَی لِمَنْ خَالَفَہُ فِی ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ سَائِبَۃً أَعْتَقَہَ رَجُلٌ مِنَ الْحَاجِّ فَأَصَابَہُ غُلاَمٌ مِنْ بَنِی مَخْزُومٍ فَقَضَی عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَیْہِمْ بِعَقْلِہِ قَالَ أَبُو الْمَقْضِیِّ عَلَیْہِ أَرَأَیْتَ لَوْ أَصَابَ ابْنِی قَالَ إِذًا لاَ یَکُونُ لَہُ شَیْئٌ۔
قَالَ : ہُوَ إِذًا مِثْلُ الأَرْقَمِ۔ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَہُوَ إِذًا مِثْلُ الأَرْقَمِ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
(٢١٤٨٠) عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ طارق نے ایک سائبہ کو آزاد کردیا تو سائبہ مرگیا۔ اس نے مال چھوڑا تو مال اہل مکہ کے پاس آیا، انھوں نے مال طارق کے سامنے حاضر کیا تو طارق نے لینے سے انکار کردیا تو مکہ کے عامل نے حضرت عمر (رض) کو لکھا۔ حضرت عمر (رض) نے لکھا مال جمع کرو اور طارق کو دو ۔ اگر قبول کریں تو دے دینا۔ اگر قبول نہ کریں تو غلام خرید کر آزاد کردینا تو انھوں نے طارق کو وراثت دی، انھوں نے قبول نہ کیا۔ انھوں نے ١٥ یا ١٦ غلام خرید کر آزاد کردیے، عقبہ کہتے ہیں کہ میں عطاء کو دیکھ رہا تھا، وہ اپنے ہاتھوں پر ١٥ یا ١٦ کو شمار کر رہے تھے۔
(ب) قتادہ اور قیس بن سعد حضرت عطاء سے نقل فرماتے ہیں کہ یعلی بن منیہ نے عمر بن خطاب کو لکھا تو حضرت عمر بن خطاب نے لکھا : وہ میراث کا زیادہ قصاص ہے۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ سائبہ کو ایک حاجی نے آزاد کیا تو بنو مخزوم کے غلام نے اس کو مار ڈالا تو حضرت عمر (رض) نے اس پر دیت ڈال دی۔ جس کے خلاف فیصلہ کیا گیا، اس نے کہا : اگر وہ میرے بیٹے کو قتل کردیتا تو ؟ فرمایا : پھر اس کے ذمہ کچھ بھی نہ ہوتا۔