(۲۱۴۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَاخْتَصَمَ إِلَیْہِ نَفَرٌ مِنْ جُہَیْنَۃَ وَنَفَرٌ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَکَانَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ جُہَیْنَۃَ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ یُقَالُ لَہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ کُلَیْبٍ فَمَاتَتِ الْمَرْأَۃُ وَتَرَکَتْ مَالاً وَمَوَالِیَ فَوَرِثَہَا ابْنُہَا وَزَوْجُہَا ثُمَّ مَاتَ ابْنُہَا فَقَالَ وَرَثَۃُ ابْنِہَا لَنَا وَلاَئُ الْمَوَالِی قَدْ کَانَ ابْنُہَا أَحْرَزَہُ قَالَ الْجُہَنِیُّونَ لَیْسَ کَذَلِکَ إِنَّمَا ہُمْ مَوَالِی صَاحِبَتِنَا فَإِذَا مَاتَ وَلَدُہَا فَلَنَا وَلاَؤُہُمْ وَنَحْنُ نَرِثُہُمْ فَقَضَی أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ لِلْجُہَنِیِّینَ بِوَلاَئِ الْمَوَالِی۔
[صحیح]
(٢١٤٩٩) عبداللہ بن ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ وہ ابان بن عثمان بن عفان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ان کے پاس جہینہ اور بنو حارث بن خزرج کے گروہوں کا جھگڑا آگیا۔ جہینہ قبیلہ کی عورت بنو حارث بن خزرج کے ایک شخص کے نکاح میں تھیجس کا نام ابراہیم بن کلیب تھا، وہ عورت فوت ہوگئی۔ اس نے مال اور غلام چھوڑے تو اس کے ورثاء میں سے ایک بیٹا اور خاوند تھے۔ پھر اس کا بیٹا بھی فوت ہوگیا، فرماتے ہیں : اس کے بیٹے کی وراثت، ہمارے لیے اور غلاموں کی ولاء کا تعلق، اس کے بیٹے نے اس کو محفوظ کیا گیا ہوا تھا۔ جہینی کہنے لگے : اس طرح نہیں، بلکہ اس کے غلام جب اس کا بچہ فوت ہوگیا ان کی ولاء ہمارے پاس ہے، ہم ان کے وارث ہے تو ابان بن عثمان نے بھی جہینی اور خزرجی کے درمیان اس طرح فیصلہ کردیا۔