(۲۱۵۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ : خَاصَمَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ إِلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ فِی مِیرَاثِ مَوْلًی لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَضَی بِمِیرَاثِہِ لاِبْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخُو عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا لأُمِّہَا وَأَبِیہَا وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ أَخُوہَا لأَبِیہَا دُونَ أُمِّہَا فَقَضَی بِہِ لاِبْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لأَنَّ عَبْدَ اللَّہِ مَاتَ بَعْدَ عَائِشَۃَ فَأَحْرَزَ ابْنُہُ مَا کَانَ أَحْرَزَ أَبُوہُ مِنَ الْوَلاَئِ وَمَنْ قَالَ الْوَلاَئُ لِلْکُبْرِ جَعَلَہُ لِلقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ الْقَاسِمِ أَنَّہُ أَنْکَرَ ذَلِکَ عَلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ۔ [صحیح]
(٢١٥٠٦) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر کے بیٹے نے قاسم بن محمد سے جھگڑا کیا، حضرت عائشہ (رض) کے آزاد کردہ غلام کی وراثت کے بارے میں تو ابن زبیر نے فیصلہ عبداللہ بن عبدالرحمن کے حق میں کردیا۔ عبدالرحمن حضرت عائشہ (رض) کا حقیقی بھائی تھا اور محمد بن ابی بکر باپ کی جانب سے بھائی تھے، ماں کی طرف نہیں تو فیصلہ عبداللہ بن عبدالرحمن کے لیے ہوا۔ اس لیے کہ عبداللہ حضرت عائشہ (رض) کے بعد فوت ہوئے تو اس کے بیٹے نے محفوظ رکھا جو اس کے باپ نے ولاء سے محفوظ رکھا تھا۔ جس نے کہا کہ ولاء بڑے کے لیے ہے تو اس نے قاسم بن محمد کے لیے مقرر کی۔ قاسم بن محمد نے ابن زبیر کے اس فیصلہ کو رد کردیا۔