(۲۱۵۲۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی أَنْبَأَنَا یَزِیدُ أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَنَّ الزُّبَیْرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدِمَ خَیْبَرَ فَرَأَی فِتْیَۃً أَعْجَبَہُ حَالُہُمْ فَسَأَلَ عَنْہُمْ فَقِیلَ ہُمْ مَوَالِی لِبَنِی حَارِثَۃَ أُمُّہُمْ حُرَّۃٌ مَوْلاَۃٌ لِبَنِی حَارِثَۃَ وَأَبُوہُمْ مَمْلُوکٌ فَأَرْسَلَ إِلَی أَبِیہِمْ فَاشْتَرَاہُ فَأَعْتَقَہُ فَاخْتَصَمَ ہُوَ وبَنُو حَارِثَۃَ إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْوَلاَئِ فَقَضَی عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْوَلاَئِ لِبَنِی حَارِثَۃَ وَقَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْوَلاَئُ لاَ یُجَرُّ کَذَا قَالَ وَالرِّوَایَۃُ الأُولَی عَنْ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَصَحُّ بِشَوَاہِدِہَا وَمَرَاسِیلُ الزُّہْرِیِّ رَدِیَّۃٌ۔ [ضعیف]
(٢١٥٢١) زہری فرماتے ہیں کہ زبیر خیبر آئے، انھوں نے ایک جوان کو دیکھا۔ اس کی حالت ان کو اچھی لگی، اس کے بارے میں سوال کیا تو بتایا گیا کہ یہ بنو حارثہ کا آزاد کردہ ہے۔ اس کی والدہ بھی بنو حارثہ کی آزاد کردہ ہے اور ان کا باپ غلام ہے تو زبیر نے ان کے باپ کو خرید کر آزاد کردیا۔ اب زبیر اور بنو حارثہ کے درمیان جھگڑا چلا جو حضرت عثمان بن عفان کے پاس آیا، ولاء کے بارے میں، حضرت عثمان (رض) نے فیصلہ بنو حارثہ کے حق میں دے دیا اور فرمایا کہ ولاء منتقل نہیں ہوتی۔