(۲۱۶۲۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ سَلْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِہَدِیَّۃٍ عَلَی طَبَقٍ فَوَضَعَہَا بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ مَا ہَذَا یَا سَلْمَانُ قَالَ صَدَقَۃٌ عَلَیْکَ وَعَلَی أَصْحَابِکَ قَالَ إِنِّی لاَ آکُلُ الصَّدَقَۃَ فَرَفَعَہَا ثُمَّ جَائَ ہُ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِہَا فَوَضَعَہَا بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ مَا ہَذَا قَالَ ہَدِیَّۃٌ لَکَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَصْحَابِہِ : کُلُوا ۔ قَالَ : لِمَنْ أَنْتَ؟ ۔ قَالَ لِقَوْمٍ قَالَ فَاطْلُبْ إِلَیْہِمْ أَنْ یُکَاتِبُوکَ قَالَ فَکَاتَبُونِی عَلَی کَذَا وَکَذَا نَخْلَۃً أَغْرِسُہَا لَہُمْ وَیَقُومُ عَلَیْہَا سَلْمَانُ حَتَّی تُطْعِمَ قَالَ فَفَعَلُوا قَالَ فَجَائَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَغَرَسَ النَّخْلَ کُلَّہُ إِلاَّ نَخْلَۃً وَاحِدَۃً غَرَسَہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَطْعَمَ نَخْلُہُ مِنْ سَنَتِہِ إِلاَّ تِلْکَ النَّخْلَۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ غَرَسَہَا؟ ۔ قَالُوا : عُمَرُ فَغَرَسَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ یَدِہِ فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِہَا۔ [حسن]
(٢١٦٢٥) عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سلمان جب مدینہ آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک پلیٹ کے اندر تحفہ رکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : سلمان ! یہ کیا ہے ؟ کہنے لگے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کے لیے صدقہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں صدقہ نہیں کھاتا تو انھوں نے اٹھا لیا۔ دوسرے دن پھر اسی طرح پلیٹ میں کچھ رکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ تو کہنے لگے : یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تحفہ ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ سے فرمایا : کھاؤ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو کون ہے ؟ کہنے لگے کہ قوم کا غلام۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان سے مکاتبت طلب کرلو۔ کہتے ہیں : انھوں نے مجھ سے مکاتبت کرلی کہ اتنی اتنی کھجوریں لگا کر دوں اور پھل آنے تک سلمان ان کی حفاظت کرے۔ انھوں نے یہ کام کرلیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کھجور کے علاوہ تمام کھجوریں لگا دیں ۔ ایک کھجور حضرت عمر (رض) نے لگائی۔ سال کے اندر تمام کھجوروں نے پھل دیا۔ سوائے اس کھجور کے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کس نے لگائی تھی تو انھوں نے کیا کہ عمر (رض) نے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بھی اپنے ہاتھ سے لگایا تو اسی سال اس نے بھی پھل دیا۔